امام جعفر صادق عليه السلام فرماتے ہیں: “جب تم کسی جنازے کو کندھا دو، تو یہ تصور کرو کہ گویا تم ہی وہ میت ہو جسے اٹھایا جا رہا ہے، اور گویا تم نے اپنے پروردگار سے دنیا میں واپس لوٹنے کی التجا کی، اور اس نے تمہاری دعا قبول کر لی۔ اب بتاؤ، تم اپنی زندگی کا آغاز کیسے کرو گے؟”

اس لمحے کا تصور کرنا بے حد دشوار ہے جب انسان اچانک موت کی گرفت میں آجاتا ہے۔ تاہم، قرآن مجید ہمیں اس حقیقت کے دلخراش مناظر دکھاتا ہے، جن میں سے ایک فرمانِ الٰہی یہ ہے: ﴿(اس دن کہا جائے گا) تو اس دن سے غفلت میں تھا، پس ہم نے تیرے سامنے سے پردہ ہٹا دیا، سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔﴾ [ق: 22]۔ اس وقت انسان پر حقیقت پوری طرح آشکار ہو جاتی ہے، اور وہ سچائی انتہائی تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے—وہی سچائی جس سے انسان ہمیشہ بھاگتا رہا اور اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کرتا رہا، جیسے اس کا اس سے کوئی واسطہ ہی نہ ہو۔

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجاتی ہے تو کہتا ہے، اے میرے پروردگار! مجھے واپس لوٹا دے * تاکہ جس دنیا کو میں چھوڑ آیا ہوں اس میں نیک عمل کروں…﴾ کیا اب یہ آرزو کسی بھی صورت پوری ہو سکتی ہے؟ ﴿ہرگز نہیں! یہ تو محض ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے، اور ان کے پیچھے ایک برزخ (آڑ) ہے اس دن تک کے لیے جب وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔﴾ [المؤمنون: 99-100]۔ جب وقت گزر جائے تو پچھتانے کا کیا فائدہ (اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت)۔

لہٰذا، امام صادق عليه السلام ہمیں نصیحت فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ موت اچانک آ پہنچے اور خدانخواستہ ہم ایسی ہولناک صورتحال سے دوچار ہوں، ہم نیک اعمال کی طرف جلدی کریں اور ایسی محنت کریں کہ ہمارا شمار اس گروہ میں ہو جنہیں یہ مژدہ سنایا جائے گا: ﴿اے اطمینان والی جان! * اپنے رب کی طرف لوٹ آ، اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہو اور وہ تجھ سے راضی ہو * پس تو میرے (خاص) بندوں میں شامل ہو جا * اور میری جنت میں داخل ہو جا۔﴾ [الفجر: 27-30]۔

الشيخ علي حسن

View all posts