مومن کا اللہ کے ساتھ تعلق میں دعا کو ایک مرکزی مقام حاصل ہے، اور یہ صرف سختی اور مصائب کے وقت کے لیے مخصوص نہیں ہے۔

• غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (ع) کے خاندان کی کن باتوں پر تعریف فرمائی؛ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ کو پکارتے تھے: (وَزَكَرِيَّا إِذْ نَادَى رَبَّهُ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ، فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَى وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ) [الانبیاء: 89-90]۔ “اور زکریا (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا: اے میرے رب! مجھے تنہا نہ چھوڑ اور تو بہترین وارث ہے۔ پس ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں یحییٰ عطا فرمائے اور ان کی زوجہ کو ان کے لیے درست کر دیا۔ یہ لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں شوق و امید اور خوف و بیم کے ساتھ پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے”۔

• یعنی شدت کی حالت میں اللہ کا ان کی دعا قبول کرنا کئی اسباب کی بنا پر ان کی تکریم تھی، جن میں سے ایک یہ تھا کہ (وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا) وہ ہمیں رغبت اور ڈر کے ساتھ پکارتے تھے؛ ضرورت اور حالات کی نوعیت سے قطع نظر، چاہے امید ہو یا خوف، آسائش ہو یا سختی۔

• روایت میں ہے کہ امام باقر (عليه السلام) فرمایا کرتے تھے: “ (ينبغي للمؤمن أن يكون دعاؤه في الرخاء نحواً من دعائه في الشدة، ليس إذا أُعطي فتر. فلا تملّ الدعاء، فإنّه من الله عزَّ وجل بمكان) مومن کو چاہیے کہ آسائش کے وقت اس کی دعا ویسی ہی ہو جیسی سختی کے وقت ہوتی ہے؛ ایسا نہ ہو کہ جب اسے عطا کر دیا جائے تو وہ سست پڑ جائے۔ پس دعا سے کبھی نہ اکتائیں، کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں دعا کا بڑا مقام ہے“۔ یعنی انسان کی قدر و قیمت کے تعین میں اللہ کے نزدیک دعا کی عظیم اہمیت ہے۔

• بلکہ امام زین العابدین (عليه السلام) سے مروی ہے کہ آپ مصائب اور سختیوں کے آنے سے پہلے ہی دعا کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔ روایت میں ہے کہ آپ (ع) فرماتے تھے:  (لم أرَ مثلَ التقدّم في الدعاء، فإنّ العبد ليس تحضُره الإجابةُ في كلِّ ساعة) “میں نے دعا میں پہل کرنے جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی“۔ یعنی تکلیف دہ اور مشکل واقعات سے پہلے دعا کرنا بہت اہم ہے۔ کیوں؟ “کیونکہ بندے کے لیے ہر گھڑی قبولیت حاضر نہیں ہوتی“۔ گویا یہ پہلے سے کی گئی دعا ایک حفاظتی اقدام کی مانند ہے، جیسے وہ حفاظتی ٹیکہ (Vaccine) جو آپ کو وبا سے محفوظ رکھتا ہے۔

• یقیناً انسان جلد باز ہے، اور بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر دعا کی قبولیت “کُن فیکُون” کے انداز میں ہونی چاہیے، اور مراد بالکل ویسے ہی پوری ہونی چاہیے جیسا وہ چاہتے ہیں۔ .  نہیں، معاملہ ایسا نہیں ہے۔ آپ کا کام دعا کرنا ہے اور باقی اللہ پر چھوڑ دینا ہے۔ واقعات اور حالات کا تعلق صرف آپ کی ذات سے نہیں ہوتا۔ کئی دوسرے پہلو اور فریق آپ کی ضرورت یا آپ پر آنے والی مصیبت کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں، اور ہو سکتا ہے کہ اس معاملے کے کچھ ایسے پہلو ہوں جو آپ کی نظر سے اوجھل ہوں: (وَلَعَلَّ الَّذِي أَبْطَأَ عَنِّي هُوَ خَيْرٌ لِي لِعِلْمِكَ بِعَاقِبَةِ الأُمُورِ) (دعاء الافتتاح)  “اور شاید جس چیز نے مجھ تک آنے میں دیر کی وہ میرے لیے بہتر ہو، کیونکہ تو انجامِ کار کو بہتر جانتا ہے”۔

• اس لیے اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اس کی رضا پر راضی رہیں، خواہ حالات آپ کی مرضی کے مطابق ہوں یا نہ ہوں۔

• حضرت زکریا (عليه السلام) کو جوانی میں یحییٰ (عليه السلام) عطا نہیں کیے گئے تھے۔ اللہ نے انہیں اس وقت بیٹا عطا کیا جب وہ اور ان کی زوجہ بڑھاپے کو پہنچ چکے تھے… ان کی ہڈیاں کمزور ہو چکی تھیں اور سر بڑھاپے کی سفیدی سے چمک رہا تھا۔ منطقی طور پر وہ اپنی جوانی ہی سے دعا کر رہے ہوں گے اور اولاد کی تمنا رکھتے ہوں گے، لیکن وہ اللہ کی رحمت کے امیدوار رہے اور اللہ کے فیصلے پر راضی رہے، چاہے وہ حال ان کی خواہشات کے مطابق ہوتا یا نہ ہوتا، اور چاہے انجام کار انہیں بیٹا ملتا یا نہ ملتا۔

• اور جب ہم اس سال عید الفطر کا استقبال ان کٹھن حالات میں کر رہے ہیں جو ہمارے پیارے ملک کویت کو درپیش ہیں، تو اللہ کی طرف رجوع اور دعا کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ جس طرح ہم آسائش میں دعا کرتے تھے، ویسے ہی سختی میں بھی دعا کریں گے۔ ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے قائدین کا ہاتھ تھامے اور انہیں ان کاموں کی توفیق دے جن میں ملک و قوم کی بھلائی ہو۔ جس طرح کویت کی کشتی ماضی کے طوفانوں سے عزم و ہمت کے ساتھ گزری ہے، ہمیں پورا یقین ہے کہ یہ کشتی آج بھی ان بڑے چیلنجز کو پار کر لے گی تاکہ ساحلِ امن تک پہنچ سکے۔ اے اللہ! اس ملک کو اور تمام اسلامی ممالک کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنا دے۔

الشيخ علي حسن

View all posts